کاروار 7؍مارچ (ایس او نیوز) سابق ایم ایل اے اور حال ہی میں شامل ہونے والے جے ڈی ایس لیڈر آنند اسنوٹیکر نے الزام لگایا ہے کہ اُترکنڑا کے ڈپٹی کمشنر سیاحتی صنعت کو فروغ دینے کے نام پر ایک زمانے سے ضلع کے ساحل پر اپنی جھونپڑیاں بناکر زندگی گزارنے والے غریبوں کا آسرا چھین رہے ہیں اور مالداروں کو تجارت کا موقع فراہم کررہے ہیں۔
اخباری کانفرنس کے دوران اسنوٹیکر نے کہا کہ ڈی سی نے غریب ماہی گیروں کی جھونپڑیوں کو ٹورزم کو بڑھاوادینے کے نام پرنیست ونابود کرتے ہوئے وہاں غیر قانونی طور پر بااثر افراد کو تعمیرات کی اجازت دے رکھی ہے۔ انہوں نے اس اقدام کے لئے ڈی سی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ:’’ پورا سمندری ساحل یہاں کے ایم ایل اے ستیش سائیل اور دیگر کچھ بااثر افراد کو فروخت کردیا گیا ہے۔کچھ بے نامی لین دین بھی ہوا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ پورا کاروار شہر ہی فروخت کرکے ڈی سی اپنی جیب بھرنے میں لگے ہوئے ہیں۔اس طرح دلکش قدرتی مناظرسے بھرپور ساحلی علاقے کو کانکریٹ جنگل میں تبدیل کردیا گیا ہے۔‘‘
اسنوٹیکر نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کبھی غریب ماہی گیروں کا آسرا رہی اس زمین پرستیش سائیل کے رشتے داروں کوسی آر زیڈ قانون کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے آڈیٹوریم اور ہوٹل تعمیر کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔دراصل یہ ستیش سائیل کی ایک بے نامی ڈیل ہے۔انہوں نے پوچھا کہ’’ آخر اس آڈیٹوریم سے غریبوں کو کیا فائدہ ہونے والا ہے؟ 6ایکڑ کے قریب زمین پر بننے والے اس آڈیٹوریم کو چند گھنٹوں کے پروگرام کے لئے 40سے 50ہزار روپے کرایے پر دینے کامنصوبہ ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ اس میں ڈپٹی کمشنر اور دیگر افراد کا حصہ کتنا ہوگا؟‘‘
آنند اسنوٹیکر نے کہا کہ کچھ ماہی گیروں اور دلت انجمنوں نے اس معاملے میں دھارواڑ ہائی کورٹ میں پیٹیشن داخل کی ہے،جس پر سماعت چند دنوں میں ہونے والی ہے۔ قانون کی اس خلاف ورزی کے بارے میں ڈی سی اور دیگر افسران کو اب عدالت میں ہی جواب دینا ہوگا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ چند دنوں کے اندر ان زیر تعمیر عمارتوں کے سامنے وہ اپنی قیادت میں احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کریں گے۔
اسنوٹیکر نے کوڈی باغ کالی ندی کے کنارے پر تعمیر ہونے والے ’راک گارڈن‘ کے سلسلے میں بھی اعتراضات جتاتے ہوئے کہا کہ’’ وہاں پرایک طرف ریت نکالنے پر پابندی لگاتے ہوئے سیکڑوں لوگوں کی روزی چھین لی گئی ہے تو دوسری طرف ضلع کے باہر والے ایک کاروباری کو تجارتی مقاصد سے تعمیرات کی اجازت دی گئی ہے اور اس میں بھی بڑے پیمانے پر بدعنوانی ہوئی ہے۔سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں کھیلنے والے ڈی سی کا یہ رویہ قابل مذمت ہے۔‘‘